جامعہ ابوالحسن علی ندوی میں مسابقۂ نعت النبی ﷺ
✍🏼 ازقلم: مولانا محمد اطہر ملی ندوی
تعلقات کی بھیڑ میں ایک مومن کامل کا محبوب اور معشوق محمدرسول اللہ ﷺ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟ 💖 خود محبوبِ رب العالمین کا ارشاد ہے: *لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین* تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کامل نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
*محبت اور اظہارِ محبت لازم و ملزوم ہیں۔* ❤️ چنانچہ؛ ؏ عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہیے ✨
یہ بات سچ ہے کہ احساس و جذبات کے خوبصورت جسم پر الفاظ کی شیروانی پوری طرح فٹ نہیں آتی پھر بھی کیفیات کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش ہر زمانے میں ہر صاحبِ زبان و قلم نے کی ہے، اور یہ بھی ایک سچ ہے کہ جذبات و احساسات کی ترجمانی نثر سے زیادہ شعر ہی کر سکتا ہے۔ ✨ چنانچہ عشقِ رسول کے اظہار کے لیے ولادتِ نبوی سے لے کر آج تک شعر کا سہارا لیا گیا، اردو میں اسے نعتِ نبی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 🌹 نعت کا موضوع چونکہ براہِ راست حضور ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے، اس لیے یہ شاعری کی افضل ترین صنف ہے، اسی بنا پر مسلمانوں کا شیوہ رہا ہے کہ اپنے محبوب نبی ﷺ کی محبت میں نعت گوئی اور نعت خوانی کی مجالس منعقد کرتے ہیں۔
۲۷ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۶ اپریل ۲۰۲۶ء کو مسجد حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کا وسیع ہال ایک انوکھی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ 🕌✨ جامعہ ابوالحسن علی ندوی دیانہ، مالیگاؤں کی بزمِ ثقافت نے تعلیمی سال ۱۴۴۷-۱۴۴۸ء کے پہلے ثقافتی پروگرام کے طور پر مسابقۂ نعت النبی ﷺ کا اہتمام کیا۔ 🌸 فضا میں ایک عجیب سی خوشبو تھی۔ 🌼
پروگرام کی صدارت جامعہ کے بانی و مہتمم *حضرت مولانا جمال عارف ندوی صاحب دامت برکاتہم* نے فرمائی۔ 🎙️
میزانِ عدل کو *مولانا اسجد کمال ندوی اور راقم الحروف (محمد اطہر ندوی)* سنبھالے ہوئے تھے۔ ⚖️
🎤نظامت کے فرائض محمد عمید (متعلم خصوصی ثالث، منجلے گاؤں) نے انجام دیے۔
📖محمد زید (متعلم خصوصی اول، مہابلیشور) نے اپنی حسین قراءت سے مسابقے کا آغاز کیا اور قرآنی آیات کی گونج سے پوری فضا معطر ہو گئی۔ ✨
🤝محمد ریحان (متعلم خصوصی ثالث، ناسک) نے تحریکِ صدارت اور محمد مصعب (متعلم خصوصی ثانی، مارول) نے تائیدِ صدارت پیش کی۔
پھر ناظمِ جلسہ نے پہلے مساہم کو ڈائس پر بلایا اور پھر وہ سلسلہ شروع ہوا جو دلوں کو محبت نبوی سے سرشار کرتا چلا گیا۔ 💞
کل سترہ مساہمین نے اس مسابقے میں حصہ لیا 👥 *سترہ نعتیں، سترہ ترنم ، سترہ نذرانے* اور ہر نذرانہ اپنی جگہ انمول۔ 💎
محمد اُنیس ابن عبدالعلیم (عربی اول، بیڑ) نے *"زباں معطر ہے دل منور طبیعتوں میں نکھار آیا"* کہہ کر وہ فضا بنا دی جس کی محفل کو تلاش تھی۔
🌹پھر محمد سہیل ابن امجد (عربی اول، مالیگاؤں) نے *"محمد مصطفی آئے بہار اندر بہار آئی"* سنا کر موسمِ بہار کی آمد کا اعلان کر دیا۔
🌸محمد ابوطلحہ ابن شعبان (خصوصی اول، مالیگاؤں) نے *"کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے، بس میرا مدعا مدینہ ہے"* پڑھا اور ہال میں ایک لمحے کے لیے جیسے سب کچھ تھم گیا۔
💐محمد حسین ابن صابر علی (عربی اول، کنج کھیڑا) اور محمد سلیم ابن سلیمان (خصوصی اول، راہتہ) دونوں نے *"نبی ﷺ کا لب پر جو ذکر ہے بے مثال آیا کمال آیا"* کا انتخاب کیا، مگر دونوں کی ادائیگی نے بتا دیا کہ ایک ہی کلام دو مختلف دلوں سے گزر کر کتنا مختلف رنگ اختیار کر لیتا ہے۔
🌷محمد حسان ابن توفیق (خصوصی اول، مالیگاؤں) اور شیخ عبداللہ ابن عابد (خصوصی اول، مالیگاؤں) نے *"حق کے دلدار کو، شاہ ابرار کو میرے سرکار ﷺ کو، سب کے غمخوار کو السلام السلام"* پڑھا، اور سلام کی ہر تکرار کے ساتھ دل ایک نئی وارفتگی میں ڈوبتا چلا گیا۔ 💫
🌹عبدالرحمن ابن ظفر الحسن (خصوصی ثانی، اڑاوت) کی آواز میں ایک درد تھا جب انہوں نے *"تمنا قلب مضطر کی نبی کے در پہ جاؤں میں"* پڑھا، انہوں نے سامعین کے دلوں کو مدینے کی آرزو اور آنکھوں کو یاد نبی کے موتیوں سے بھر دیا۔ 😢
🪷محمد مستقیم ابن عبدالکریم (خصوصی اول، منجلے گاؤں) نے *"دور ہوں میں دیارِ نبی سے، کیا مزا ایسے جینے میں آئے"* میں وہی کیفیت بیان کی جو ہر اس دل کی ہے جو مدینے سے دور ہو۔
🌺عبدالصمد ابن رقیم (عربی اول، پیپل گاؤں) نے *"وہ جس کے لیے محفل کونین سجی ہے، فردوسِ بریں جس کے وسیلے سے بنی ہے، وہ ہاشمی مکّی مدنیُ العربی ہے، وہ میرا نبی، میرا نبی، میرا نبی ہے"* پڑھا اور "میرا نبی" کی ہر تکرار کے ساتھ دلوں میں محبت رسول کا احساس گہرا ہوتا چلا گیا۔ ❤️
🌸عبدالاحد ابن محمد افضل (خصوصی اول، مہابلیشور) نے *"محمد ہمارے بڑی شان والے، وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے"* سے اس شانِ رسالت کا تذکرہ کیا۔ ✨
🌼شیخ ابرارالحق ابن مولانا طاہر (خصوصی ثانی، پربھنی) نے اقبال عظیم کی نعت جو انہوں نے خون جگر سے لکھی ہے *"کہاں میں، کہاں مدحِ ذاتِ گرامی، نہ سعدی، نہ رومی، نہ قدسی، نہ جامی"* پڑھی۔ اور یہ اعلان کر دیا کہ ثنائے محمد ﷺ آسان کام نہیں ہے۔
🌻محمد عدنان ابن محمد صادق (خصوصی ثالث، سائے گاؤں) نے *"وہ شہرِ محبت جہاں مصطفی ہیں، وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے"* میں وہ آرزو بیان کی جو ہر مسلمان کے سینے میں کہیں نہ کہیں دبی ہوئی ہے۔
💫احمد ابن مولانا افضل (خصوصی اول، مہابلیشور) نے محبت رسول میں ڈوبی ہر آنکھ میں سجا خواب سنایا *"مجھ کو سرکار کی خدمت میں بلایا جاتا، سامنے ان کی محبت میں بٹھایا جاتا"* آپ بتائیے اس خواب کو کون نہیں دیکھتا؟
🌙محمد معاویہ ابن غفران (عربی اول، دھولیہ) *"دربارِ مصطفی میں زار و قطار رویا، اپنی جفائیں سوچیں میں بار بار رویا"* پڑھ کر سامعین کی آنکھوں کو اشک باری میں شریک کر لیا۔ 😭
❄️محمد عزیر ابن عبدالوارث (عربی اول، امراوتی) نے *"کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں، یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے"* پڑھ کر محبت رسول ﷺ میں اضافہ کر دیا۔ 🌹
🌧️اور آخر میں محمد شہباز ابن دلدار (خصوصی ثانی، بھورسی) نے *"ان کا یہ رتبہ ان کا یہ پایا، سوچ محمد کیسے ہیں"* کے ساتھ مقام خاتم الانبیاء سے روشناس کرایا۔ 🚨 (اس نعت میں ایک مصرع قابل اعتراض تھا جس پر مہتمم جامعہ نے بروقت نشاندہی فرمائی)
*مسابقہ کیا تھا؟*
عشقِ رسول میں زمزم و کوثر و تسنیم کا بہتا دریا تھا، جس سے تشنہ لبوں کو محبتِ نبوی کے لبالب جام پلائے گئے۔ 🥂 کبھی دیارِ مدینہ کی آرزو، کبھی ہجرِ طیبہ کا سوز، کبھی بارگاہِ رسالت میں حاضری کی تمنا، کبھی شانِ نبوت کی رفعت، کبھی خُلقِ رسول کی دلنوازی، کبھی اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور کبھی اس در پر پہنچنے کی تڑپ، غرض ہر لہجے میں سوز تھا، گداز تھا، ہر آواز کے پیچھے ایک دھڑکتا دل تھا، اور ہر دل میں ایک جلتی ہوئی چنگاری۔ 🔥
🎙️مسابقے کے بعد *حکمِ اول مولانا اسجد کمال ندوی صاحب* نے اپنے گرانقدر تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "آج کی اس روح پرور محفل میں بیٹھ کر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم کسی مسابقے میں نہیں، بلکہ عشقِ رسول ﷺ کی ایک ایسی بزم میں شریک ہیں جہاں لفظ دل سے نکل رہے ہیں، جہاں آواز نہیں عقیدت اور محبت گونج رہی ہے۔" 💖
انہوں نے فرمایا کہ نعت خوانی کوئی فنِ محض نہیں، یہ ایک امانت ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک نسبت ہے، یہ وہ وادی ہے جہاں قدم رکھنے سے پہلے دل کو وضو کرانا پڑتا ہے، نیت کو خالص کرنا پڑتا ہے، اور زبان کو درود کا ذائقہ دینا پڑتا ہے۔ 🌿
بطورِ حکم انہوں نے چار نکات پر توجہ دلائی:
① نعت خوانی میں ادب کا اہتمام
② تلفظ و ادائیگی کی درستگی
③ کلام کے انتخاب میں احتیاط
④ نعت خوانی کا اصل مقصد داد حاصل کرنا نہیں بلکہ دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرنا ہے
اور آخر میں فرمایا: *"یہاں اصل کامیابی نمبر نہیں، نسبت ہے، اور جسے یہ نسبت مل جائے وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔"* 🌹 ؏ مے خانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے۔
اس کے بعد *راقم الحروف (محمد اطہر ندوی)* نے انعام یافتگان کا اعلان کیا۔ 🏆
*انعام یافتگان:*
اوّل انعام 🥇 محمد ابوطلحہ ابن شعبان (خصوصی اول، مالیگاؤں) *کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے، بس میرا مدعا مدینہ ہے*
دوم انعام 🥈 محمد سہیل ابن امجد (عربی اول، مالیگاؤں) *محمد مصطفی آئے بہار اندر بہار آئی*
سوم انعام 🥉 شیخ عبداللہ ابن عابد (خصوصی اول، مالیگاؤں) *حق کے دلدار کو، شاہ ابرار کو میرے سرکار ﷺ کو، سب کے غمخوار کو السلام السلام*
*انعامات کی تقسیم صدرِ مجلس* کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ 🎁
بعد ازاں گزشتہ تعلیمی سال میں *کمپیوٹر کورس کرنے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹ* سے نوازا گیا۔ 💻📜
〰️〰️〰️〰️〰️
🎙️بعدہٗ صدرِ مجلس *حضرت مولانا جمال عارف ندوی صاحب* نے *"محبتِ رسول اور فضیلتِ درود"* کے عنوان پر صدارتی کلمات ارشاد فرمائے۔
*پیرِ مغاں نے عشقِ رسول کے نشے میں مست رندوں کو درست سمت دکھاتے ہوئے فرمایا: کہ محبت کی اصل منزل اطاعت ہے، اور درود و سلام اس اطاعت کا زینہ ہے۔ نعت خوانی مقصود نہیں، یہ تو مقصود تک پہنچنے کا راستہ ہے اور وہ مقصود ہے سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنانا۔ 🌙*
*جب تک محبت اطاعت میں نہ ڈھلے، تب تک عشق کا دعویٰ ادھورا ہے اور نعت خوانی کی محفلیں بے ثمر ہیں۔ ⚠️*
*مے کشوں نے چاہا کہ یہ نشست اور چلے، بَلانوش رندوں کی تشنگی ابھی باقی تھی، لیکن پیرِ مغاں نے وعدۂ فردا کے ساتھ اور دعائے خیر و عافیت سے اس محفلِ عشق کی برخاستگی کا اعلان کر دیا۔ ✨*
💫✨💫✨💫✨💫
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں